Showing posts with label free education in pakistan. Show all posts

Aliza Brohi ... A Ray of Hope for Girl Education in Pakistan



       ایک پاگل لڑکی !


ALiza Brohi, Saving Future Girls School


جن کے مظبوط ارادے ہوں پہچان اُن کی
منزلیں آپ ہی ہوجاتی ہیں آسان اُن کی
وہ پرندے جنہیں منزل کی لگن ہوتی ہے
ایک پرواز مسلسل ہی  ہے پہچان   اُن کی



علیز ہ کا نام سُنتے ہی یہ شعر بے اختیار میرے ذہن میں در آتاہے۔ جی ہاں علیزہ بروہی ایک دبلی پتلی درمیانہ قد کی لڑکی جس کے بُلند حوصلے اور مظبوط ارادے اُس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں سے صاف عیاں ہوتے ہیں۔بڑے بڑے لوگ بڑی بڑی باتیں کرتے رہ جاتے ہیں اور اس چھوٹی سی لڑکی نے ایک بہت بڑا کام صرف اپنی مسلسل کوششوں اور مظبوط ارادوں کے ساتھ مکمل کیا۔ گو کہ ابھی صرف پہلے سیڑھی پر قدم رکھا ہے لیکن کہتے کہیں کہ ہزاروں مِیل کا سفر صرف ایک قدم سے شروع ہوتا ہے۔


ایک ایسے معاشرے میں جہاں اچھے اچھے خاندانوں میں بھی لڑکیوں کی تعلیم کوغیر ضروری سمجھا جاتا ہو وہاں سڑکوں پربھیک مانگتی چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں کو سڑک سے اُٹھا کر اپنے گھر میں واقع ایک کمرے پر مشتمل اسکول میں لے کر آنے اور ان کو تعلیم دینے کیلئے اُس نے جو پریشانیاں اُٹھائیں اور جن رُکاوٹوں کا سامنا کیا، ہم اُن کا تصوّر بھی نہیں کرسکتے۔اُس ایک کمرے کے اسکول سے لے کر ایک چار کمرے کے اسکول تک کا سفر بلاشُبہ اس نے اپنے بلند اور مظبوط 
ارادوں کی مدد سے ہی طے کیا، لیکن یہ اُس کی منزل نہیں یہ تو آغاز ہے اُسے تو ابھی بہت آگے جانا ہے۔


سیونگ فیوچر کے نام سے بنے اس اسکول میں اس وقت ۱۰۰ سے زیادہ بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ جہاں نہ صرف تعلیم مفت ہے بلکہ اس کے ساتھ بستے، کتابیں اور یونیفارم بھی اسکول سے فراہم کیا جاتا ہے۔ صرف اس لئے کہ ان کی تعلیم کا سلسلہ صرف اس لئے نہ ٹوٹ جائے کہ ان کے ماں باپ یہ اخراجات برداشت نہیں کرسکتے یا کرنا نہیں چاہتے۔ یہ تمام چیزیں فراہم کرنا علیزہ کے لئے جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا لیکن اس نے حو صلہ نہ  ہارا۔ کُچھ مُخیّر اور درد مند افراد نے بھی مدد کا ہاتھ آگے بڑھایا اور ناممکن کو ممکن بنانے میں مدد کی۔ لیکن ابھی اور آگے جانا ہے۔ علیزہ سے بات کرتے وقت میں نے اُس کے لب و لہجہ میں نہ صرف اُس کے ارادوں کی پُختگی دیکھی بلکہ اپنے اسکول کی بچیوں کیلئے اس کی بے لوث محبت بھی محسوس کی۔ اﷲ کرے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اس کا جُنوں کبھی ختم نہ ہو اور اس چراغ سے چراغ جلتے رہیں۔

About Author

Fahmina Arshad is Blogger, Social Media Activist, Women Rights activist, women rights defender, feminist, women issues advisor and ambitious to work for Women Growth in Pakistan.

Follow by Email

Popular Post

Copyright © Enough !!! Powered by JazzMak - Template by EmBlogger.com | Jaiser.