Showing posts with label pakistan. Show all posts

احوال ایک شادی کا جہاں کھانا ضائع نہیں ہوا !

احوال ایک شادی کا جہاں کھانا ضائع نہیں ہوا !

ہوگئے نہ حیران آپ بھی۔ میں بھی ہو گئی۔ یہ احوال ایک شادی کا ہے جس میں ، میرے ساتھ میری ہمدم نگہت خان بھی شریک تھیں۔ یہ شادی ارم مسیح کی تھی جو ہم دونوں کے گھر کے کاموں میں ہماری مددگار یعنی Maid تھی۔ ہم دونوں رات گئے تک مسیحی برادری کی اس تقریب میں شریک تھے۔ جہاں ہم شاہد ہوئے ان کی کچھ ایسی روایات کے کہ جنہوں نے ہم دونوں کو بہت متاثر کیا۔ قصّہ مختصر یوں کہ کچھ خاندانی رسومات اور دعائیہ کلمات سے فارغ ہوکر ایک خوش رُو اور خوش گُلو نوجوان نے مائیک تھاما اور حاضرین کو نہایت عزت و احترام سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کو اپنی اپنی نشستوں پر تشریف رکھنے کو کہا ساتھ میں یہ ہدایت بھی تھی کہ تمام لوگ اپنے اپنے بچوں کو اپنے ساتھ بٹھالیں کیونکہ کھانا لگنے والا ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ لوگ پہلے ہی بڑٰی دیر سے آئے ہیں اس لئے مزید وقت ضایع نہ کریں۔ اس کے بعد وہ نوجوان یوں گویا ہوا 

’’ پیارے بہن بھائیوں، کھانا آپ لوگوں کی میزوں پر ہی پیش کردیا جائے گا۔ پیٹ بھر کر سکون کے ساتھ کھانا کھایئے لیکن ضائع نہ کیجئے۔ رزق ضایع کرنے کو خدا پسند نہیں کرتا‘‘

یہ بات اُس نے کئی دفعہ دہرائی، حاضرین میں سے کسی کی پیشانی پر بل نہیں پڑے، جس سے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ مشق ان کے ہاں عام ہے۔ بہرحال کھانا پیش کیا گیا، حاضرینِ محفل نے نہایت سکون کے ساتھ کھانا کھایا۔ یقین کیجئے کوئی افرا تفری نہیں تھی۔ شادی ہال میں صرف کھانا پیش کرنے والے متحرک تھے۔ کھانا کھانے کے بعد میں نے خود اٹھ کر کئی میزوں کو دیکھا، کسی میز پر پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا نظر نہیں آیا۔
دل کو بہت خوشی ہوئی، کاش یہ عمل عام ہوجائے اور لوگ اس کی اہمیت کو سمجھ جائیں۔

یہ تتلیوں جیسی لڑکیاں



یہ تتلیوں جیسی لڑکیاں


یہ لڑکیاں جنہیں میں بچیّاں کہنا زیادہ پسند کرتی ہوں۔تتلیوں جیسی خوش رنگ  جہاں جائیں ماحول کو رنگوں سے بھر 
دیں۔ اور جُگنو جیسی  روشنی سے بھرپور، اندھیروں کو شکست دیتی ہوئی لڑکیاں۔ کہنے کو صنفِ نازک مگر آہنی ارادوں والی، شفاف خیالوں والی۔جن کی نگاہیں اپنی اپنی منتخب کردہ  منزلوں پر مرکوز ہیں۔ جہیں اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے میں کوئی شک نہیں ہے کوئی شُبہ نہیں وہ   کٹھن رستوں پر چلنے پر  تیار ہیں، نہ صرف تیار ہیں بلکہ ان کٹھنائیوں کو اپنے 
ارداوں کی مضبوطی  اور مسلسل عمل سے سہل  بنانا بھی بخوبی جانتی ہیں۔یہ ہیں لڑکیاں ، یہ تتلیوں جیسی لڑکیاں۔

میں بھی کبھی ایک لڑکی تھی، میں  نے جیسا بننا چاہا بالکل ویسا نہ بن سکی، جو کچھ بھی حاصل کرنا چاہا، وہ مکمل حاصل نہ 
کر سکی، لیکن آج اپنے آس پاس جب ان لڑکیوں کو دیکھتی ہوں تو بہت خوش ہوتی ہوں۔ ایسا لگتا ہے جو جو کمیاں مجھ 
میں رہیں وہ ان کو دیکھ کر مکمل ہو گئیں۔ یہ لڑکیاں میرے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہیں۔ سکون کی لہریں میری 
روح میں اترنے لگتی ہیں۔ جب  یہ پیاری بچیاں کھلکھلا کر ہنس پڑتی ہیں۔

مجھے یہ کہنے میں ذرّہ برابر بھی جھجھک نہیں کہ اس عمر میں میں نے ان لڑکیوں سے بہت کچھ سیکھا، اور سیکھنے کا اور 
متاثر کرنے کا یہ عمل مسلسل جاری ہے ۔  میں بہت خوش ہوتی ہوں ان کی قابلیت دیکھ کر ، ان کے احساسات جان کر، ان کے خیالات سُن کر، زندگی    کی طرف ان کا رویہ  دیکھ کر۔ انسانوں کیلئے ان کے جذبات دیکھ کر۔ مجھے کوئی عار نہیں یہ کہنے میں انہوں نے مجھے زندگی گزارنے کے الگ طریقے سکھائے، زندہ رہنے کیلئے الگ سلیقے بتائے۔ اور یہ بھی بتایا کہ صرف سانس لینا ہی زندگی نہیں،  زندہ رہنے کے لئے بھی کوئی مقصد ہونا ضروری ہے۔


یہ لڑکیاں ، یہ تتلیوں جیسی لڑکیاں، دیکھنے میں نازک مگر کوئی ان کے خیالات سنے، ان کے احساسات  سمجھے ، ان کے ارادے جانے تو حیران رہ جائے۔  اخلاق،  احساس، انصاف ، مساوات اور پیار سے مالامال ان کی شخصیات  مجھے تو کیا کسی کو بھی متاثر کرنے کیلئے کافی ہیں۔بس ذرا دھیان دینے کی دیر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ لڑکیاں ، یہ تتلیوں جیسی لڑکیاں 
اپنے نرم و نازک پروں کے ساتھ ایک لمبی اڑان بھریں گی اور کامیابی کی بلندیوں تک پہنچیں گی۔












   رباب، طوبیٰ ، مکھے تاج، کومل، ضوفشاں،  صدف ، صبو اور انعم ، یہ میری بلند نصیبی ہے کہ تم  سب میری زندگی میں شامل ہو اور مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ  تم لوگوں نے نئی نسل کی کیلئے میری سوچ کو تبدیل کیا۔ میں نے تم سب سے بہت کچھ سیکھا ہے,  جس کیلئے شکریہ،  میری زندگی میں شامل سب لڑکیوں کے نام 

Tuesday, November 28, 2017
Posted by Fahmina Arshad

عورت کو غیرت کیوں نہیں آتی ؟


there is no honor in killing



عورت کو غیرت کیوں نہیں آتی !


غیرت کے نام پر صرف عورتیں ہی 

 قتل کیوں ہوتی ہیں؟   یہ سوال بار بار

 ایک کیڑے کی طرح میرے دماغ میں

 کلبلاتا رہتا ہے۔ میں اپنے آپ سے یہ 

سوال بار بار کرتی  ہوں مگر جواب ندارد۔کتابوں میں بھی ڈھونڈا، سیانوں سے بھی پوچھا، حکیم ڈاکٹروں سے بھی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ عورت کا معاملہ ہو تو ہر قسم کی غیرت صرف مردوں میں ہی جاگتے دیکھی، بھائی ہوں ، باپ ہوں یا شوہر نامدار سب کے سب با غیرت نکلے۔اور بے غیرتی صرف عورت کے حصے میں آئی ۔

 بُری عورت کی اصطلاح  نے بھی جنم لے لیا کیونکہ مرد تو بُرا ہوتا ہی نہیں۔گویا عورت اپنے ساتھ برائی لے کر پیدا 

ہوئی اور اس کی برائی میں کوئی شریک ِ کار نہیں کوئ سہولت کار نہیں وہ اکیلی ہی اپنے گناہوں کی ذمہ دار ٹھہری۔

یہ وہ واحد گناہ ہے کہ جس میں صرف ایک ہی فریق کو ذمہ دار اور گناہگار مانا  اور جانا جاتا ہے ۔ یہ تو معاملہ ہے 

معاشرے کی سطح پر۔

گھروں اور خاندانوں میں تو اس بُری عورت کو سزا دینے میں کوئی تاخیر نہیں کی جاتی اور دامے درمے سخنے اس کی 

مرمت ہوتی  ہی رہتی ہے۔ روز مرہ کی گالی گلوچ ، مار کُٹائی سے لے کرہر قسم کا تشدد اور قتل  سب جائز ہے کیونکہ

 مرد کو غیرت آتی ہے۔

آخر اس بے غیرت عورت کو غیرت کیوں نہیں آتی؟

علی شریعتی کہتے ہیں ’’ مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ کوئی عورت گناہ کرتی ہے مگر اُس کو چھپانے

 کیلئے داڑھی نہیں  رکھ سکتی ۔‘‘

خیر یہ تو ایک  حوالہ تھا اور  اس داڑھی سے  بھی مجھے کوئی غرض نہیں ، سمجھنے کی بات یہ ہے  مرد سب کچھ کرکے

  بھی مکھن سے بال کی طرح صاف نکل جاتا ہے اور پھنس جاتی ہے یہ بے وقوف عورت۔

بہن ہوکر بھائی کے خطوط خوشی سے اس کی محبوبہ کو پہنچاتی ہے۔ بیوی ہوکر خاوند کی بد کاریوں پر پردہ ڈالتی ہے اور 

طوائف ہو تو مردوں کی دل پشور ی کا سامان تو ہے ہی۔مگر مجال ہے جو ذرا سی بھی غیرت  آئے۔ اگر اس جگہ کوئی

 مرد ہوتا تو لاشیں گرا دیتا۔ غیرت مند جو ٹھہرا !

تازہ مثال  قندیل بلوچ کی ہے، سُنا ہے بہت ہی بُری  عورت تھی ، سارا  زمانہ جانتا تھا، سُنا ہے بڑی بے باک تھی کبھی

 اپنی برائی کو چھپایا بھی نہیں  ماں باپ  بھائی بہنوں کی  پوری ذمہ داری اٹھاتی تھی مگر بھائی کی غیرت اس وقت جاگی 

جب  اس کو  نشے کیلئے پیسے دینا بند کر دیئے۔ غیرت مند بھائی تھا برداشت نہ کرسکا اور اس  بُری عورت کو دنیا سے 

ہی اٹھا دیا۔کمال کردیا !

کاش ! ایک دن ایسا بھی آئے کہ کچھ عورتوں کو بھی غیرت آئے

شیخ چلی کا خواب صحیح، دیکھنے میں کیا حرج ہے!













  








About Author

Fahmina Arshad is Blogger, Social Media Activist, Women Rights activist, women rights defender, feminist, women issues advisor and ambitious to work for Women Growth in Pakistan.

Follow by Email

Popular Post

Copyright © Enough !!! Powered by JazzMak - Template by EmBlogger.com | Jaiser.